’’یوکرین کو اکیلا چھوڑ دیا گیا کون ہے جو ہمارا ساتھ دے ۔۔‘‘ روس کا حملہ جاری، یوکرین کے صدر نے پیغام جاری کر دیا

Written by on February 25, 2022

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے اعلان کیاہے کہ وہ دالرحکومت کیف میں ہی رہیں گے جب ان کی فوجیں دووسری جنگ عظیم کے بعد کسی یورپی ملک پر سب سے بڑے حملے میں دارلحکومت کی طرف پیش قدمی کرنے والی روسی فوج کا مقابلہ کر رہی ہے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق گزشتہ روز روس نے فضا، زمین اور سمندر کے ذریعے یوکرین پر حملہ کیا ، ایک انداز کے مطابق ایک لاکھ سے زائد لوگ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ ہر طرف دھماکے اور گولہ بارود کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ، درجنوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

امریکہ اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کا کہناہے کہ روس کیف پر قبضہ کرتے ہوئے حکومت کو گرانا چاہتے ہیں جسے ولادی میر پیوٹن امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہین ، روسی فوج نے چرنوبل کے سابق نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیاہے ، یہ قبضہ اس وقت کیا گیا جب وہ بیلا روس سے شمال کی طرف کیف کے مختصر راستوں پر سفر کرتے ہوئے ہوئے پہنچے ۔

یوکرین کے صدر نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ دشمن کا نمبر ون ٹارگٹ میں ہوں ، میری فیملی دوسرا بڑا ٹارگٹ ہے ، وہ مجھے ختم کر کے یوکرین کو سیاسی طور پر یتیم کرنا چاہتے ہیں ، میں دارلحکومت میں ہی رہوں گا اور میری فیملی بھی یوکرین میں ہی ہے ۔‘‘

نجی ٹی وی نیوز کے مطابق یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ ’’کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ روس اور یورپ کے درمیان آہنی دیوار گر رہی ہے،نیٹو رکن بنانے کی گارنٹی دینے والے خوف زدہ ہیں،ہمیں کوئی دکھائی نہیں دے رہا، کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرین کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔‘‘


Reader's opinions

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Current track

Title

Artist