20سال سے کبھی گنے کی کرشنگ اکتوبر میں نہیں ہوئی ، وفاق کیسے چینی بحران کا الزام سندھ پر عائد کرتا ہے ، سعید غنی

Written by on November 12, 2021

سندھ حکومت کے وزیر سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے میں کبھی بھی گنے کی کرشنگ اکتوبر میں نہیں ہوئی ، کبھی چینی بحران نہیں آیا ، یہ کیسے اپنی نالائقی چھپانے کیلئے سندھ پر الزام عائد کر سکتے ہیں ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بھی شوگر ملوں میں گنے کی 28 یا 29 نومبر سے شروع ہوئی ، تب تو چینی کا بحران نہیں تھا ، قانون میں لکھا ہے کہ گنے کی کرشنگ اکتوبر میں ہوگی لیکن گزشتہ 20،25 سال سے کبھی گنے کی کرشنگ اکتوبر میں نہیں ہوئی  ،  چینی کے علاوہ گندم کا بحران آجائے یا پٹرول کی قلت ، وفاق ہر بار اپنی لانائقی چھپانے کیلئے ذمہ دار سندھ کو قرار دے دیتا ۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں گندم کم پیدا ہوتی ہے ، تقریباً 75فیصد گندم پنجاب میں پیدا ہوتی ہے ، پھر بھی آٹے بحران کا قیمتوں میں اضافے کی وجہ سندھ کو قرار دیا جاتاہے ، جب پنجاب میں گندم کی قلت ہوتی ہے تو پورے ملک پر اثر پڑتا ہے ، سندھ بھی کوئی جزیرہ یا علیحدہ ملک نہیں ہے ، یہاں بھی اثرات پڑتے ہیں ۔

بلدیاتی اداروں سے متعلق بات کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ صرف سندھ میں بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت پوری کی ، پنجاب میں جیسے ہی تحریک انصاف کی حکومت آئی انہوں نے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کر دیا ، سپریم کورٹ نے سات ماہ قبل بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دیا مگر اب تک عمل نہ ہوا ، خیبرپختونخوا میں بلدیاتی ادارے کئی سال سے کام نہیں کر رہے ۔ سندھ میں دوبارہ بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کی ذمہ داری ہم پر نہیں آتی ،  آئین کے مطابق ہر مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہونی ضروری ہیں ، یہاں نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں اس لئے انتخابات نہیں ہو سکتے ۔ ہم قانون پر کام کر رہے ہیں امید ہے کہ تین سے پانچ ماہ میں سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے ۔

سعید غنی نے کہا کہ نالائق حکومت کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے ، سٹیٹ بینک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے مگر سٹیٹ بینک کے معاملات میں مداخلت ہو رہی ہے ۔


Reader's opinions

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Current track

Title

Artist