بھٹوں پر جبری مشقت کاکیس ، چیف کمشنر اسلام آباد سے قانونی سازی سے متعلق رپورٹ طلب

Written by on November 4, 2021

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھٹوں پر جبری مشقت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے  چیف کمشنر سے قانون سازی سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھٹو پر جبری مشقت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، ممبران کمیشن کی رائے میں تضاد پایا گیا کہ جبری مشقت ختم ہو چکی ہے یا نہیں ،  کمیشن کے ممبران کے وکیل کی جانب سے عدالت کو کہا گیا کہ ابھی یہ نہیں کہہ سکتے اسلام آباد میں جبری مشقت ختم ہو چکی ہے آج تک تو کہہ سکتے ہیں جبری مشقت کے کیسز اسلام آباد میں ختم ہو چکے،  عدالت نے استفسار کیا کہ کیا چیف کمشنر بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ جبری مشقت نہیں ہو رہی ؟َ۔ جس پر وکیل نے کہا کہ آج تک کا تو دے سکتے ہیں ، کل کا کچھ معلوم نہیں ۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کل کا بھی خیال کرنا ہے کہ یہاں پر کوئی جبری مشقت نہ ہو ۔ وکیل نےعدالت کو بتایا کہ اسلام آباد لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس اسٹاف بہت کم، صرف چار لوگ ہیں۔

چیف جسٹس اطہر منا للہ نےریمارکس دیے کہ اگر جبری مشقت جاری ہے تو یہ بھی کمیشن ہی دیکھے کہ کہاں کہاں جاری ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ نے اپنے جواب میں چار قسم کے قوانین کا ذکر دیا ہے۔

عدالت نے چیف کمشنر سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔


Reader's opinions

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Current track

Title

Artist